+923009799962

The Month of Safar and Muslim beliefs - 1

ماه صفر اور اور مسلمانوں کے عقائد 1 فضیلة الشیخ عبدالله ناصر رحمانی حفظہ الله تعالی

The Month of Safar and Muslim beliefs - 2

ماه صفر اور اور مسلمانوں کے عقائد 2 فضیلة الشیخ عبدالله ناصر رحمانی حفظہ الله تعالی

⚜🛑ماہ صفر کی حقیقت اور بدعات  ⚜🛑

➖➖➖➖➖➖➖➖➖

🔰 صفر کیا ہے❓
اسلامی کلینڈر کے دوسرے مہینے کا نام صفر
صفر…..مطلب زیرو 0 زیرو ……مطلب کچھ نہیں.
 
آئیے جانتے ہیں کہ کیا صفر کے مہینے کی کوئی خاص حیثیت ہے❓
کیا ماہ صفر کی محرم الحرام کی طرح کوئی امتیازی حیثیت ہے.❓
لوگ اسے منہوس کیوں کہتے ہیں❓
کیا اس ماہ سے جڑی توہمات’بد گمانیاں اور بد شگونیوں کی کوئی حقیقت ہے یا پھر محض یہ سب آج ہماری علم سے دوری ہے❓
➿➿➿🌹➿➿➿
ماہ صفر تاریخ کے آئینے میں
نبی صلیٰ علیہ وسلم جس معاشرے میں مبعوث کیےگئے وہ مشرکین کا معاشرہ تھا.
نام کے مسلمان تھے.نسبت ابراہیم علیہ اسلام سے جوڑتے تھے لیکن……تعلیمات بلکل محو ہو چکی تھیں.
▪نبی کی آمد سے پہلے نبوت کا تار ٹوٹ چکا تھا.
▪حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے رسول صلیٰ علیہ وسلم کے بیچ سے کئی صدیاں گزر چکی تھیں.
⭕جب نبی کا دور آیا تو مشرکین میں صفر کے مہینے کے بارے میں دوبدعات بہت عام تھیں
▪وہ صفر کے مہینے کو
اپنی مرضی سے آگے پیچھے کرتے.
کبھی محرم کے مہینے کو کہتے یہ صفر ہے اور کبھی صفر آگیا تو کہتے یہ محرم ہے اور بعض دفعہ کہتے کہ وہ بھی صفر تھا اور اگلا بھی صفر ہوگا.(تاکہ لوٹ مار کر سکیں)
( ایک بدعت 👆🏻)
▪حج کے دنوں میں عمرہ زمین پر سب سے بڑا گناہ سمجھا جاتا……. حدیث کا مفہوم 👇🏻
جب حج کے سفر کی وجہ سے سواریاں زخم خوردہ ہو کر شفاءیاب ہو جائیں.زخموں کے نشانات مٹ جائیں. صفر گزر جائے. تو عمرہ کرنے والا عمرہ کر سکتا ہے.
(دوسری بدعت👆🏻)
❄….تمام توہمات ‘بدگمانیاں’اور بد شگونیاں اس مہینے سے جوڑ دی گئیں.
▪سفر کرنا ….❌
▪شادیاں کرنا…❌
اس ماہ کو منہوس قرار دے دیا گیا
〰〰〰نبی صلیٰ علیہ وسلم صفر کے مہینے میں کیا کرتے تھے ❓
➿➿➿🌹➿➿➿
🔹رسول اللّٰہ صفر کے مہینے میں کچھ نہیں کرتے تھے.
🔹اس ماہ میں نہ ہی کوئی خاص روزہ رکھنے کو کہا گیا
🔹نہ ہی اس میں کسی دن کوئی خاص عبادت کی بات بتائی گئی.
▪………..اسمیں کوئی شرعی طور پہ ایسی چیز نہیں_ ❌
کیا کوئی دن ‘مہینہ اور سال منہوس ہے ❓
“ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنا دیا.رات کی نشانی بے نور اور دن کی نشانی کو روشن بنایاتاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور تم سال کی گنتی اور حساب جان لو “( سورہ بنی اسرائیل )
📚ایک حدیث میں آتا ہے
_”بیماری خود بخود متعدی نہیں ہوتی. بد شگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور نا ہی صفر کے مہینے میں کوئی نحوست ہے. کوڑھی کے مریض سے اس طرح دور رہو جیسے شیر سے دور رہتے ہو “
⭕اور حدیث قدسی ہے👇🏻
“مجھے تکلیف دیتا ہے آدم کا بچہ. زمانے کو گالی دیتا ہے اور میں زمانے کو بنانے والا ہوں.اور میرے ہاتھ میں ہر کام ہے.میں رات اور دن کو الٹ پلٹ کرتا ہوں”
اللّٰہ کی بنائی کوئی چیز منہوس نہیں.نہ کوئی دن نہ رات… نہ مہینہ نہ سال. …نہ کوئی جانور نہ عورت اور نہ ہی کوئی مرد
 
عرب لوگوں میں بدعات تھیں کیونکہ انکے پاس نبی نہ تھا….
علم نہ تھا..
📌لیکن ……ہمارے پاس تو سب ہے ……